ہفتہ 31 جنوری 2026 - 21:40
شور کا ہجوم، سچ کی تنہائی

حوزہ/شیعہ تاریخ کے آئینہ میں جب آج کے حالات کو دیکھا جائے تو منظر نامہ نیا نہیں لگتا، صرف کردار بدل گئے ہیں اور اسٹیج روشن اسکرینوں میں تبدیل ہو گیا ہے۔ حق کو فتنہ اور باطل کو نظم کہنے کی روایت وہی ہے جو صدیوں پہلے قائم کی گئی تھی۔

تحریر: مولانا سید علی ہاشم عابدی

حوزہ نیوز ایجنسی| شیعہ تاریخ کے آئینہ میں جب آج کے حالات کو دیکھا جائے تو منظر نامہ نیا نہیں لگتا، صرف کردار بدل گئے ہیں اور اسٹیج روشن اسکرینوں میں تبدیل ہو گیا ہے۔ حق کو فتنہ اور باطل کو نظم کہنے کی روایت وہی ہے جو صدیوں پہلے قائم کی گئی تھی۔ آج بھی دنیا اور میڈیا کو ایران کے احتجاج تو پوری شدت سے دکھائے جاتے ہیں، مگر امریکہ اور اسرائیل میں اپنی حکومتوں کے خلاف اٹھنے والی عوامی صداؤں کو خاموشی کی نذر کر دیا جاتا ہے اور یہ خاموشی خود ایک چیخ ہے۔

شیعہ تاریخ کی بنیاد ہی مظلومیت اور صداقت کے اس امتحان پر رکھی گئی ہے۔ کربلا میں سید الشہداء امام حسین علیہ السلام کی قلیل جماعت کو معاذ اللہ “باغی” کہا گیا، اور یزیدی لشکر کو “ریاست کا محافظ”۔ منبروں سے اموی خاطبوں نے اپنی شیطانی زبانیں استعمال کیں، درباری ملاؤں نے فتوے جاری کئے، اور اُس دور کا “میڈیا” یہی اعلان کرتا رہا کہ امن کے لئے حسینؑ کا سر کٹنا ضروری ہے۔ مگر تاریخ نے کس کا نام زندہ رکھا؟ دربارِ یزید مٹ گیا، مگر حسینؑ آج بھی دلوں کی دھڑکن ہیں۔

اموی و عباسی ادوار میں یہی داستان بار بار دہرائی گئی۔ وارث کربلا، امام مزاحمت، معمار بیداری امام زین العابدین علیہ السلام کی گریہ آلود خاموشی کو کمزوری کہا گیا، معلم بشریت، مربی انسانیت امام محمد باقر علیہ السلام اور انکے فرزند و جانشین امام جعفر صادق علیہ السلام کے علم کو سیاست سے خطرہ سمجھا گیا، اور سلطان صبر امام موسیٰ کاظم علیہ السلام کی قید کو “ریاستی مصلحت” کا نام دیا گیا۔ اُس وقت بھی طاقت کے پاس منبر تھا، قاضی تھا، قلم تھا—مگر سچ چند قیدیوں، چند سجدوں اور چند آنسوؤں میں محفوظ رہا۔ یہی وہ سچ تھا جو وقت کے ساتھ درباروں سے زیادہ مضبوط ثابت ہوا۔

تاریخ شیعہ گواہ ہے کہ جب حق کی آواز دبائی جاتی ہے تو شور بڑھا دیا جاتا ہے۔ امیر المومنین امام علی علیہ السلام کے خلاف صفین میں نعروں کی گونج تھی، مگر عدلِ علیؑ خاموشی سے تاریخ میں اتر گیا۔ خوارج کی زبانیں تیز تھیں، مگر امیر المومنین علیہ السلام کا صبر اس سے زیادہ با اثر رہا اور آخر فیصلہ عدل کے حق میں ہوا۔ یہی منطق آج بھی کارفرما ہے: ایران کے خلاف بیانیہ شور سے بنایا جاتا ہے، جبکہ امریکہ اور اسرائیل میں لاکھوں لوگوں کی چیخیں طاقت کے مفاد میں خاموش کر دی جاتی ہیں۔

جدید دور میں بھی شیعہ شعور نے یہی سبق زندہ رکھا۔ امام خمینی قدس سرہ نے جب شاہی استبداد اور عالمی طاقتوں کے خلاف کلمۂ حق بلند کیا تو اُس وقت کا عالمی میڈیا بھی اسے “انتہا پسندی” کہتا تھا۔ مگر وہی صدا انقلاب بنی، اور وہی انقلاب آج ایک خودمختار قوم کی شناخت ہے۔ آیۃ اللہ العظمیٰ سید علی خامنہ ای دام ظلہ کی قیادت میں ایران اسی تسلسل کا نام ہے—نہ وقتی جذبات، نہ وقتی سیاست، بلکہ وہی تاریخی استقامت جو کربلا سے قم اور نجف سے تہران تک پھیلی ہوئی ہے۔

الحمدلله شیعہ تاریخ کی روشنی میں یہ بات یقین کے ساتھ کہی جا سکتی ہے کہ میڈیا کے پردے، درباری بیانیے اور طاقت کے شور سب عارضی ہیں۔ جو آج ایران کے احتجاج کو بڑھا چڑھا کر دکھاتا ہے، انشاء اللہ کل وہی اپنی خاموشی پر شرمندہ ہوگا۔ کیونکہ ہم نے تاریخ سے سیکھا ہے کہ سر کٹ جاتے ہیں، چراغ بجھتے نہیں؛ قلم توڑ دیے جاتے ہیں، مگر سچ مٹتا نہیں۔

یہی شیعہ تاریخ کا خلاصہ ہے اور یہی دور حاضر کی حقیقت ہے۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha